بوسیدہ قرآن کریم کو جلانا
سوال
ایک شخص نے قرآن شریف کو جلا دیا، کیا وہ ایمان سے خارج ہو گیا؟ اگر ایمان سے خارج ہو گیا تو کیا اس شخص کا نکاح بھی فاسد ہو گیا؟ ایسی حالت میں کیا اس کی زوجہ کو عدت کے دن گذارنا لازم ہیں؟ اگر ایسا شخص اپنی بیوی کو رجوع کرنا چاہتا ہے تو شرعاً اسے کیا کرنا چاہیے؟
جواب
قرآن کریم کو جلانا اگر اس وجہ سے پیش آیا کہ وہ بوسیدہ ہو گیا تھا اور تلاوت کے قابل نہیں رہا تھا، اس کو بے ادبی سے بچانے کے لئے جلا دیا تب تو ایمان میں کوئی فرق نہیں آیا، البتہ اس نے غلطی کی۔ ایسی حالت میں پاک کپڑے میں لپیٹ کر قبر بنا کر دفن کر دینا چاہئے تھا۔ اب استغفار کرے، اس کا نکاح قائم ہے ختم نہیں ہوا۔ اگر کسی اور وجہ سے جلایا ہے۔ تو تفصیل لکھ کر دریافت کریں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔