اخبارات میں قرآن پاک کی آیات یا ان کا ترجمہ شائع کرنا
سوال
بعض اخبارات و رسائل میں قرآن پاک کی آیات شائع ہوتی رہتی ہیں جن کو لوگ عام طور سے ردی میں فروخت کر دیتے ہیں اب سوال یہ ہے کہ ردی میں فروخت کرنا اور اخبارات و رسائل میں آیات کا شائع کرنا کیسا ہے۔ نیز اگر صرف اردو یا ہندی ترجمہ شائع کریں تو صورت مذکورہ میں اس کا حکم کیا ہے؟ فقط
جواب
دین کی اشاعت کے لئے آیات کا لکھنا اور ان کا ترجمہ کرنا اور ان کا چھاپ کر شائع کرنا درست ہے لیکن ان کا ردی میں استعمال کرنا درست نہیں احترام کے خلاف ہے۔ محض ترجمہ کا بھی احترام لازم ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔