قرآن کریم کلینڈر اور اخبار میں چھپوانا
سوال
قرآن کریم کلینڈر پر چھپوا کر دوکانوں اور مکانوں پر لگاتے ہیں بہ نیت زیبائش۔ جو کچھ دنوں میں دیواروں سے گر کر نالوں، کوڑہ خانوں کی نذر ہو جاتا ہے جس سے قرآن کریم کی بے حرمتی ہوتی ہے۔ اخبارات میں بکثرت کلام اللہ چھپتا ہے جو دوکانوں پر پنساری استعمال کرتے ہیں، ان کی پڑیہ بناتے ہیں، پھر ان کو نالیوں میں ڈال دیتے ہیں یا چولہوں میں جلا دیتے ہیں یا کوڑے کرکٹ پر ڈال دیتے ہیں۔ اس سے کتاب اللہ کی بے حرمتی ہو رہی ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کیا یہ حکم شرعی ہے کہ اشاعت قرآن اخباروں وکلینڈروں کی بند کی جائے؟
جواب
یہ صورت حال یقیناً احترام قرآن کریم کے خلاف اور موجب وبال ہے۔ اس کی اصلاح اور روک تھام ضروری ہے۔ اگر آیات قرآنیہ کو محض ذریعہ زیبائش بنایا جائے اور ان سے کمرہ سجا لیا جائے تو اس کی بھی اجازت نہیں چہ جائے کہ انجام کار غلاظت بھر کر پھینکی جائے یا ان آیات کو غلاظت میں پھینکا جائے العیاذ باللہ عملاً ایسا کرنے سے ایمان کا سلامت رہنا دشوار ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔