ردی کاغذ کا گتا بنانا
سوال
موجودہ دور میں کاغذ کی افراط کے ساتھ ردی کی بھی بہت کثرت ہے۔ اس میں اردو اخبارات جس میں ترجمہ احادیث اور ترجمہ قرآن پاک بھی ہوتا ہے۔ نیز بہشتی زیور، میں اردو فقہ یا عربی قواعد وغیرہ کے اوراق ہوتے ہیں، ان کا مصرف کیا ہے؟ آج کل گتا مل گتا بنانے کے واسطے یہ ردی خریدتا ہے اور وہ وہاں دھل کر صاف ہو کر گتا بنانے کے کام میں آجاتی ہے، جو انسان کی ضرورت کے کام آتا ہے۔ اور ردی کی فروختگی میں مسلمان کو نفع بھی ہے۔ چونکہ اکثر اردو پریس اور اردو کتب خانہ مسلم آدمیوں کے ہیں اور اس میں ان کا کافی نقصان بھی ہے۔
جواب
اگر وہ ان اوراق کی بے ادبی نہیں کرتے، نجاست میں استعمال نہیں کرتے، ان کو دھو کر گتا بناتے ہیں تو ان کے ہاتھ فروخت کرنا شرعاً درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔