بے وضو غسل کتابیں پڑھنا
سوال
(الف) وہ کتاب جس میں قرآن مجید وحدیث لکھی ہوئی ہو علاوہ فقہ واصول کے مثلاً نحو کی کتاب ہو تو ایسی کتاب کو بے وضو پڑھنا کیسا ہے۔ (ب) اور وہ کتاب جس میں بجز بسملہ کے اور قرآن وحدیث لکھی ہوئی نہ ہو مثلاً منطق کی کتاب ہے تو ایسی کتاب کو جنبی پڑھ سکتا ہے یا نہیں۔ نیز مفسرین کو بے وضو چھونا کیسا ہے۔ فقط
جواب
(الف) ایسی نحو کی کتاب کو بغیر وضو پڑھنا درست ہے۔ (ب) ایسی کتاب جنبی پڑھ سکتا ہے بر وقت ضرورت جائز ہے مگر بہتر نہیں، اور جب چھوئے تو جس جگہ قرآن شریف لکھا ہے اس جگہ پر ہاتھ نہ لگائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔