دستر خوان یا مصلے پر آیات یا اسماء الہیہ لکھنا
سوال
حامد ایک دستر خوان پر کچھ آیات قرآنی تحریر کر کے اس پر خورد و نوش کرنا چاہتا ہے مثلاً یہ آیات كُلُوا حَلالاً طَيِّباً، كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا لَنْ تَمُوْتَ نَفْسٌ حَتَّى تَسْتَكْمِلَ رِزْقُهَا حامد کی نیت میں یہ خلوص ہے کہ جو بندہ خدا بھی اس دستر خوان سے کھانا تناول کرے اس کی اصلاح ہو جائے، حلال و حرام کی تمیز کرے آیا اس قسم کی حرکت از روئے شرع جائز ہے یا نا جائز؟ اور ایسا کرنے والا آ ثم ہو گا یا نہیں؟ نیز جلالین شریف بغیر وضو چھونا جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ اس میں آیات قرآنی سے زیادہ شرح ہے۔ فقط
جواب
جو کام شرعاً نا جائز ہے ضروری نہیں کہ نیک نیت سے جائز بھی ہو جائے۔ قرآن کریم کی آیات و اسماء الہیہ واجب الاحترام ہیں۔ دستر خوان پر لکھ کر ایسے دستر خوان کو استعمال کرنے سے ان کا احترام باقی نہیں رہے گا۔ کتابة القرآن على مايفترش ويبسط مكروهة كذافي الغرائب بساط اومصلی کتب عليه الملك لله يكره بسطه والقعود عليه واستعماله الخ (فتاوی عالمگیری ص ۹۴ رج (۱۴) اس لئے اسکی اجازت نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔