کتب تفسیر کو بلا وضو مس کرنا
سوال
قاضی، مفتی، طلبہ خصوصاً کتب تفسیر وحدیث پڑھنے والے اگر صاحب اعذار ہوں تو ان کو ان کتابوں کا مس کرنا بلا کراہت جائز ہے یا نہیں اگر مکروہ ہے تو کس درجہ کا مکروہ، نہیں تو کیوں جو بھی متعین ہو اس کے مرتکب پر شرعاً کیا حکم ہے تصریح اعذار موصوفہ کے رات و دن اکثر اوقات میں ممارست و مزاولت کتب مذکورہ ہوتی رہتی ہیں مثلاً بوقت مطالعہ و تکرار سبق علاوہ اسکے مثلاً مطالعہ کر رہا ہے اتفاق سے نیند آ گئی دوبارہ وضو کیا پھر ثانیا وثالثا اس قسم کا واقعہ پیش آتا رہا۔
جواب
حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کے نزدیک صورت مسئولہ میں مس کرنا مکروہ نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔