کیا ارتداد سے عمل حبط ہو جاتے ہیں؟
سوال
میں ہو جائے گا تو ایسے لوگوں کے عمل ضائع ہو جائیں گے۔ آیت (۲) وَمَنْ يَكْفُرُ بِالإِيْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلہ۔ ترجمہ: جو کوئی ایمان سے پھر گیا تو اس کے عمل ضائع ہو گئے۔ آیت نمبر (۱) سے امام شافعی نے استدلال کیا ہے کہ جو شخص مرتد ہو جائے اور جب تک وہ کفر کی حالت پر نہ مرے اس کے عمل ضائع نہیں ہوتے کیونکہ مثلاً جیسے ظہر کی نماز پڑھی اور پھر مرتد ہو گیا اور ابھی نماز کا وقت باقی تھا کہ وہ پھر مسلمان ہو گیا تو اب اس کو ظہر کی نماز مکرر پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ نماز اس کی ضائع نہیں ہوئی۔
جواب
یہ اختلاف ایک اصولی اختلاف پر بنی ہے۔ وہ یہ ہے کہ مفہوم صفت امام شافعی کے نزدیک حجت ہے اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک حجت نہیں جیسے کہ وَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعُ مِنْكُمْ طَوْلاً أَنْ يَنْكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ صولين نے اس کو مثال میں پیش کیا ہے کمافی ارشاد الفحول وحصول المامول والتحرير و غيرها، تفسیر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔