امام شافعی کا استدلال: / امام ابو حنیفہ کا استدلال: / طعام اہل کتاب سے متعلق ایک شبہ
سوال
قرآن مجید کی اس آیت کا مطلب تو سمجھ میں آ گیا کہ کتاب والوں کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے یعنی کتاب والے جو جائز کھانا اپنے ہاتھ سے پکا کر یا اپنے ہاتھ سے ذبح کر کے کھلائیں تو تم اس کو کھا لیا کرو کیونکہ چھوت چھات ٹھیک نہیں یہ آیت اگر قرآن شریف میں نہ ہوتی تو اہل کتاب کے کھانے کے متعلق مسلمان لوگ شک میں پڑے رہتے اس لئے اس آیت سے وہ شک رفع ہو گیا۔ مگر مندرجہ ذیل مطلب والی آیت شریفہ کا مفہوم سمجھا دیجئے (تمہارا کھانا اہل کتاب کے لئے حلال ہے)
جواب
تفسیر مظہری میں لکھا ہے کہ اشیاء دوقسم کی ہیں بعض تو سب کے لئے بلا شرط حلال ہیں جیسے دریا کا پانی اور بعض کی حلت کے لئے کچھ شروط ہیں جیسے حلت صلوٰۃ کے لئے وضو شرط ہے اور تمام عبادات کے لئے ایمان شرط ہے اور حلت مال کے لئے ملک یا مالک کی اجازت شرط ہے تو آیة وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ میں یہ فرمایا ہے کہ مسلمانوں کا ذبیحہ غیر مسلموں کے لئے بلا شرط حلال ہے جیسا کہ دوسرے جائز…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔