حرمت رضاعت
سوال
جس عورت نے عوام میں زید کو دودھ پلانے کا اقرار کیا اور کرتی رہی اور اب وہ اپنی لڑکی کا نکاح زید کو دینے پر آمادہ ہو گئی اس کے اقرار عند العوام سے حرمت رضاعت ثابت ہوگی یا نہیں؟ بلکہ زید کا باپ بھی اس کا مقر ہے کہ میرے لڑکے نے اس کا دودھ پیا ہے۔
جواب
جب لڑکی کی والدہ اور لڑکے کے والد کا اقرار ہے تو ان کو اپنی اولاد کا اس طرح نکاح کرنا حرام ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔