شبہ رضاعت کا حکم
سوال
عبد القادر اور سلمی خاتون دونوں حقیقی خالہ زاد بہن بھائی ہیں۔ بالغ ہونے کے بعد دونوں کی شادی ہوگئی اور ایک لڑکا بھی پیدا ہو گیا۔ ایک موقع پر عبد القادر کی والدہ نے بتایا کہ میں نے تمہاری بیوی یا اس کی دوسری بہن کو مدت رضاعت میں اپنی گود میں بٹھا لیا تھا۔ اب پتہ نہیں کہ اس نے میرا دودھ پیا ہے یا نہیں اور تمہاری خالہ بھی موجود تھی۔ ہو سکتا ہے ان کو یاد ہو لہذا تم ان سے پوچھ لو اس نے خالہ سے پوچھا کہ میری بیوی یا اس کی بہن کو میری والدہ نے دودھ پلایا ہے یا نہیں تو انھوں نے کہا کہ اس کے بارے میں مجھے کچھ معلوم نہیں۔
جواب
اگر عبد القادر سلمی کو اس بات کا یقین نہیں تو کوئی تردد نہ کریں۔ یہ نکاح درست ہے۔ کیونکہ نہ دودھ پلانے والی کو یقین ہے نہ اس پر شرعی شہادت ہے۔ وحجتہ حجۃ المال (در مختار)۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔