بچہ کو غلطی سے دودھ پلانے پر بھی رضاعت کا حکم
سوال
مسماۃ فاروق النساء نے اپنی لڑکی کے دھو کہ میں اپنے پوتے کو گود میں لے کر دودھ پلا دیا پانچ چھ منٹ یا کچھ کم کے بعد جو اس نے دیکھا تو وہ اس کی لڑکی نہیں تھی۔ بلکہ پوتا تھا، یہ علم ہوتے ہی اس نے فوراً پوتا کوعلیحدہ کر دیا اب مسماۃ فاروق النساء کے اس پوتا کی نسبت شادی مسماۃ فاروق النساء کی نواسی سے ہو سکتی ہے یا نہیں اور شرعی حیثیت سے کیا وہ پوتا فاروق النساء کے بیٹے اور بیٹیوں کا رضاعی بھائی ہو گیا اگر نہیں تو کیا فاروق النساء کے دیگر بیٹے بیٹیوں کی اولاد سے اس کی شادی نکاح شرعاً جائز ہے جواب باصواب سے مطلع فرمائیے۔
جواب
یہ پوتا فاروق النساء کی تمام اولاد کا رضاعی بھائی ہو گیا اور اس نواسی کی والدہ کا بھی رضاعی بھائی بن گیا اور با اور یہ نواسی اس کی رضاعی بھانجی ہوگئی ان دونوں کا آپس میں نکاح جائز نہیں۔ بلکہ فاروق النساء کی اولاد در اولاد جہاں تک بھی چلے کسی سے بھی اس کا نکاح درست نہ ہوگا۔ جب دودھ کا یقینی چاہے ایک ہی گھونٹ حلق کے اندر گیا اور خواہ کسی نیت سے (دھوکہ سے یا قصداً)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔