الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ثبوت رضاعت سماعاً

سوال

عبداللہ خاں نے بعد انتقال اپنی زوجہ اول زیب النساء دوسرا عقد مہر النساء سے کیا میر خان جو لڑکا برکت النساء بنت زیب النساء کا ہے نو ماہ کی عمر میں یتیم ہو گیا یعنی اس کی والدہ (برکت النساء) کا انتقال ہو جاتا ہے اور مہر النسا جس کی عمر اس وقت چالیس برس کی ہے اور بیوہ ہو چکی ہے اس کا دودھ بھی خشک ہو چکا ہے وہ میر خان کی پرورش کرتی ہے۔ میرخان کی پرورش گائے کے دودھ سے ہوتی ہے مگر بعض اوقات میر خان جب روتا ہے تو بغرض خاموش کرانے کے مہر النساء اپنی چھاتی اس کے مونہہ میں دیدیتی ہے۔

جواب

اگر دو عادل مردوں یا ایک عادل مرد اور دو عادل عورتوں کی شہادت موجود ہے تو شرعاً میرخان کا عقد باصرہ سے صورت مسئولہ میں درست نہیں ہوا تفریق واجب ہے اور چوں کہ رخصتی نہیں ہوئی اس لئے مہر اور عدت بھی واجب نہیں اگر ایسی شہادت موجود نہیں بلکہ محض روایت ہے تو میر خان اگر اس روایت کی تصدیق کرتا ہے تب بھی یہی حکم ہے، بشرطیکہ باصرہ بھی تصدیق کرتی ہو اور اگر تکذیب کرتا ہے اور باصرہ بھی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو