حرمت رضاعت کے ثبوت کے لئے شہادت کے شرائط
سوال
عبدالواحد اور کشورا بانو کی آپس میں والدین نے نسبت طے کی جب عبدالواحد کو اس کا علم ہوا تو اس نے انکار کر دیا یہ آج سے چار پانچ سال پیشتر کی بات ہے اور یہ دونوں خالہ زاد بہن بھائی ہیں اور عبد الواحد تین چار سال تک برابر انکار کرتا رہا کشورا بانو کی ماں نے ایک بار عبدالواحد سے بلا واسطہ دریافت کیا تو عبدالواحد نے جواب دیا کہ میں ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ میں پہلے اپنی چھوٹی بہنوں کا بوجھ اپنے کندھوں سے اتارنا چاہتا ہوں اس بات سے کشورا کی والدہ کچھ نا امید سی ہوگئی مگر کچھ عرصہ بعد کشورا کے والدین نے فیصلہ کر لیا کہ…
جواب
یہ تو نص قطعی سے ثابت ہے کہ رضاعی بہن سے نکاح حرام ہے۔ واخواتكم من الرضاعة! اب بحث طلب بات یہ ہے کہ موجودہ حالات میں صرف لڑکی کی والدہ کے بیانات ہیں اور وہ بھی مذکورہ رائے کے تغیر وتبدل کے بعد کشورا کی والدہ جب خود پیش قدمی کر کے عبدالواحد سے اس شادی کی خواہش اور کوشش کر رہی تھی اس وقت یہ رضاعت کا واقعہ کیوں سدراہ نہیں بنا، اب جب کہ عبد الواحد اپنی بہن کی شادی کشورا کے بھائی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔