رضاعت کی حجت
سوال
ایک شخص نے اپنی ماموں زاد بہن سے نکاح کیا اور بعد نکاح تقریباً آٹھ نو سال زوجین آپس میں زندگی بسر کرتے رہے اور اس اثناء میں ایک فرزند بھی پیدا ہوا اور مر بھی گیا اب معلوم ہوا کہ اپنی ماں کے مرض کے زمانہ میں زوج کی ماں کا دودھ پیتی رہی اور اس کا علم محض زوجہ کی ماں اور زوج کی ماں کو ہے اب اس واقعہ کی شہرت کے ساتھ ہی زوجہ کے خاندان والوں نے عورت کو اپنے گھر روک رکھا ہے اب اس صورت مذکورہ میں مابین زوجین تفرقہ کا حکم ہوگا یا نہیں۔ بينوا توجروا
جواب
ثبوت رضاعت کے لئے دیگر معاملات مالیہ کی طرح دو عادل مرد یا ایک عادل مرد اور دو عادلہ عورتوں کی شہادت شرط ہے اور صورت مسئولہ میں یہ نصاب شہادت موجود نہیں لہذا قضاء تفریق کا حکم نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ اگر زوجین اس شہادت کی تصدیق کرتے ہیں۔ یا فقط زوج تصدیق کرتا ہے تو مفارقت لازم ہے اور عورت کا مہر بھی لازم ہوگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔