ڈھائی سال عمر ہو جانے پر حرمت رضاعت
سوال
(۱) مسماۃ رحیما اور امام حسین آپس میں پھوپی بھتیجہ کا حقیقی رشتہ ہے اور رحیما کی عمر ۲۰ سال کی تھی اور امام حسین ڈھائی سال کا ہو چکا تھا امام حسین نے ڈھائی سال کی عمر میں اپنی حقیقی دادی کا دودھ پیا ہے اور پھوپی بھتیجہ کے درمیان بیس سال کا زمانہ ہوا اب مسماۃ رحیما کی لڑکی سے امام حسین کا نکاح جائز ہے کہ نہیں یہ رضاعت ثابت ہوئی یا نہیں اور اس میں بیس سال کا زمانہ گزرنے پر امام حسین نے اپنی دادی کا دودھ پیا ہے اب اس پر رضاعت ثابت ہوتی ہے یا نہیں؟ (۲)
جواب
(۱) اگر ڈھائی سال کی عمر ہو چکی تھی اس وقت دودھ پیا ہے تو اس سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوئی لہذا رحیما کی لڑکی امام حسین کی رضاعی بہن کی لڑکی (بھانجی) نہیں ہوئی ان دونوں کا نکاح درست ہے۔ (۲) جس بچہ نے مدت رضاعت میں جس عورت کا دودھ پیا ہے اس بچہ کا اس عورت کی کسی لڑکی سے نکاح جائز نہیں خواہ اس بچے کے دودھ پینے سے پہلے پیدا ہوئی ہو۔ خواہ بعد میں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔