الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حرمت رضاعت کا ثبوت

سوال

مسمی زید نے اپنی لڑکی کی منگنی اپنی حقیقی ہمشیرہ ہندہ کے لڑکے سے کر دی ہے اور منگنی کی رسم ایک محفل میں پوری کی گئی مثلاً رشتہ داروں کو دعوت کھلانا اور اپنی ہمشیرہ کو اسی طور پر کپڑا وغیرہ دینا سب کچھ کر دیا اب عرصہ آٹھ نو دن کا ہوا کہ ہمشیرہ کے تقاضہ پر مسمی زید نے اپنی لڑکی کے نکاح کا دن مقرر کر دیا آج آٹھ روز بعد مسمی زید کی بیوی مسماۃ خدیجہ نے بیان دیا ہے۔

جواب

ثبوت رضاعت کے لئے شرعاً دو عادل مرد یا ایک مرد دو عورت عادلہ کی شہادت ضروری ہے صرف ایک عورت یا ایک مرد اور ایک عورت کی شہادت سے حرمت رضاعت ثابت نہ ہوگی پس اگر نکاح کر لیا گیا تو حرام نہیں ہو گا صورت مسئولہ میں شہادت تام نہیں ہے لہذا نکاح درست ہے لیکن اگر غالب خیال یہ ہے کہ عورت سچ کہتی ہے تو اس نکاح سے احتیاط واجتناب چاہئے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو