عقد نکاح سے انکار کا حکم
سوال
ہندہ نے نکاح ثانی زید سے پچاس ساٹھ برادری کے مسلمانوں میں کر لیا بعد نکاح زوج سابق کے رشتہ داروں نے جائیداد کا جھگڑا کر کے مقدمہ عدالت میں دائر کر دیا۔ فریقین نے وکیل کر لئے، ہندہ کا ایک ہندو وکیل ہے جس نے یہ رائے دی ہے کہ ہندہ نکاح ثانی سے انکار کر دے تو زوج سابق کی جائیداد پر قابضہ رہ سکتی ہے۔ اس پر عمل کرتے ہوئے ہندہ اور اس کا ایک متبنی لڑکا دونوں نکاح سے انکاری ہو گئے۔
جواب
جھوٹ بولنا شرعاً حرام اور کبیرہ گناہ ہے لیکن اپنا حق وصول کرنے اور ظلم دفع کرنے کے لئے جب کہ کوئی دوسری صورت قابو میں نہ ہو۔ تعریضاً کذب جائز ہے صراحہ اس وقت بھی جائز نہیں ہے اگر وہ جائیداد ہندہ کی نہیں بلکہ زوج سابق کے دیگر ورثاء کی ہے اور ہندہ اپنا مہر اور حصہ وراثت لے چکی یا معاف کر چکی ہے تب تو کسی طرح ہندہ کو جھوٹ بولنا جائز نہیں قطعاً حرام ہے جو لوگ اس کے ساتھ اس کبیرہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔