بیوی کو آٹھ ماہ تک نہیں دیکھا
سوال
میری بیوی نیک ہے، وفا شعار ہے، نو بچے ہیں، ۲۰ / برس شادی کو گذر گئے کبھی ناراضگی کی نوبت نہیں آئی میں ۱۹۶۸ء میں حج کو گیا تھا اور بیوی سے کہہ کر گیا تھا کہ گھر سے باہر مت نکلنا۔ لیکن وہ ایک دفعہ سینما گئی، پھر ایک دفعہ عرس میں گئی، پھر کسی اور جگہ گئی، جس پر میرے بھائی نے اس کو بہت مارا۔ جب میں حج سے واپس آیا تو یہ واقعہ مجھے بتلایا۔ حج سے آنے پر میرے سالے صاحب بھی مجھے بمبئی لینے آئے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ اپنی بہن کو اپنے گھر لے جائیں۔ انھوں نے ایسا ہی کیا۔ مگر سب محلہ والوں نے میری عورت کو بے قصور کہا۔
جواب
غلطی انسان کے ساتھ لگی ہوتی ہے مرد ہو یا عورت سب سے ہی کچھ نہ کچھ چھوٹی بڑی غلطی ہو جاتی ہے، غلطی پر نادم ہو کر سچے دل سے توبہ کرنے سے اللہ پاک بھی معاف فرما دیتے ہیں۔۔ آٹھ مہینے تک آپ نے اس کو الگ رکھا۔ یہ سزا بہت کافی ہے۔ اس مدت میں آپ اس کو خرچ دیتے رہے۔ یہ مزید احسان کیا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔