انقطاع ولادت سے نکاح ختم نہیں ہوتا
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ زید کی شادی ہونے کے بعد دو لڑکے پیدا ہوئے جو کہ فوت ہو گئے اس کے بعد لڑکے ہونے بند ہو گئے کیونکہ وہ عورت مرد کے قابل نہ رہی لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ جب زید کی بیوی مرد کے قابل نہیں رہی تو زید کے نکاح سے ختم ہو گئی تو کیا ایسا لوگوں کا کہنا شریعت مطہرہ سے درست ہے یا نہیں اور ایسی صورت میں اگر زید ثانی نکاح دوسری عورت سے کرلے تو زید کی اولاً بیوی جو مرد کے قابل ہی نہیں اپنے شوہر زید سے مہر کی حقدار ہو سکتی ہے یا نہیں کیونکہ زید کی بیوی کا خود یہ بیان ہے کہ میں اب تمہارے قابل…
جواب
لوگوں کا یہ کہنا کہ اس صورت میں زید کا نکاح ختم ہو گیا غلط ہے اور جہالت پر مبنی ہے۔ ایسی صورت میں بھی شرعاً نکاح باقی ہے مہر پورا واجب ہے خواہ زید دوسری عورت سے شادی کر لے یا اسی پر قناعت کرے اگر بیوی خود ہی مہر معاف کر دے تو معاف ہو جائے گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔