گوت میں نکاح کرنا
سوال
یہاں کے کچھ مسلمانوں میں زمانہ قدیم سے یہ رواج ہے کہ لڑکے لڑکی کے نکاح باپ کے خاندان یعنی گوت وقبیلہ میں نہیں کرتے۔ اپنے ہم گوت وخاندانی لڑکا لڑکی، بہن بھائی مانتے ہوئے نکاح کرنا برا وناجائز جانتے ہیں، خواہ تایا وچچازاد لڑکا حافظ قرآن ہی کیوں نہ ہو۔ دوسرے گوت وقبیلہ میں نا خواندہ کو اچھا وجائز سمجھ کر کرتے ہیں۔ آیا ایسی صورت میں غیر کفو میں یعنی گوت میں نکاح کرنا درست ہے یا نہیں؟ جب کہ بموجب ارشاد واجب العمل والاعتقاد نبی آخر الزماں ﷺ مَنْ تَشَبَّه بقوم الخ غیر گوت میں کرنا ہندووانہ رسم ہو۔
جواب
یہ رسم ورواج غلط اور غیر اسلامی ہے اس کو توڑنا واجب ہے خدائے پاک کی حلال کی ہوئی چیز کو حرام سمجھنا بہت بڑی جہالت ہے۔ مگر اس کے باوجود جو نکاح دوسرے خاندان میں شرعی طریقہ پر ہوگا اس کو نا جائز اور حرام نہیں کہا جائیگا ورنہ دوسری جہالت ہوگی گوت نہ ملنے پر داماد سے ملازموں کی طرح خدمت
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔