دن اور کسی تاریخ میں نحوست نہیں
سوال
(۱) اس بارے میں شرعی حکم سے مطلع فرما دیں کہ دن تاریخ کو منحوس سمجھنا اچھا ہے یا برا؟ اور کیا رسول اللہ ﷺ جمعرات اور سنیچر کے دن زیادہ سفر فرماتے تھے؟ (۲) ایک مولوی صاحب نے اعلان کیا کہ ۱۸ / تاریخ کو شادی نہیں کرنی چاہئے۔ کیوں کہ ۱۸ تاریخ میں شادی کرنے سے لڑکے اور لڑکی کی زندگی خراب ہو جاتی ہے۔ کیا شریعت میں اس کی کوئی اصل ہے؟ (۳) تیزی کے چاند میں اور بارہ وفات میں شادی کی مقرر کردہ تاریخ میں شادی کر سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب
(۱) حضرت مجدد الف ثانی نے لکھا ہے کہ اس امت میں کسی دن (تاریخ وغیرہ) میں نحوست نہیں، البتہ بعض دن اور بعض تاریخ میں خیر وبرکت زیادہ ہے۔ جمعرات اور سنیچر کے سفر میں خیر وبرکت ہے۔ (۲) یہ چیز شرعاً بے اصل ہے۔ (۳) کر سکتے ہیں۔ شرعاً اس کی ممانعت نہیں
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔