الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

لینا

سوال

اپنے قبیلہ وگوت کو چھوڑ کر غیر قبیلہ میں نکاح کرتے ہیں۔ یہ صورت کہ لڑکی کے بدلہ میں لڑکی بمحاورہ دیہات آٹا سا ٹا کرنے کو لازم بلکہ الزم سمجھ کر کرنا، اگر ایک طرف لڑکے والے کے یہاں لڑکی نہ ہو تو دس ۱۰ ہزار سے بیس ۲۰ بائیس ۲۲ / ہزار روپے تک حسب عمر وحسن وجمال نقد لینا ضروری سمجھتے ہیں۔ یہ امر بوقت خطبہ ہے۔ بروقت نکاح برادری کے حسب دستور مہر معجل علاحدہ ہے جولڑکی کا حصہ ہے۔

جواب

آٹا سا ٹا تو نا جائز نہیں ہے جب کہ دونوں طرف مہر مستقل ہوئے لیکن اس کو لازم سمجھنا غلط ہے اور الزم سمجھنا اغلط ہے۔ اگر بدلہ میں لڑکی نہ ملے تو روپیہ لینا رشوت ہے جو کہ حرام ہے جس پر جہنم کی وعید ہے پھر روپیہ نہ ہونے کی صورت میں داماد سے مزدوروں کی طرح مدت متعینہ تک کام لینا انتہائی تحقیر وتذلیل ہے اُدھار ہونے کی صورت میں آئندہ نسلوں سے وصول کرنا بڑا ظلم ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو