الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

متعین ایام میں نکاح ورخصتی بدشگونی نہیں

سوال

آج کل عوام الناس لڑکی کے نکاح اور رخصتی جو کرتے ہیں تین یا پانچ یا سات سال میں کرتے ہیں یا تو پہلے سال کریں گے جفت سال میں نہیں کرتے اس کو منحوس خیال کرتے ہیں یہ شرک ہے یا کار شرک ہے اور اگر عقیدہ نہ بھی ہو پھر بھی یہ شکل مشابہ شرک ہے یا نہیں؟

جواب

یہ خیال بدشگونی وبدفالی ہے۔ یہ اسلامی عقیدہ نہیں اس سے توبہ لازم ہے لا عدوی ولا طيرة (الحدیث) جن لوگوں کا یہ عقیدہ نہیں ان کو ایسی جگہ تشبہ سے بچنا چاہئے تا کہ نہ دوسروں کا عقیدہ فاسد ہو نہ عقیدہ فاسد والوں کو استدلال کا موقع ملے مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ منهم (الحديث)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو