قومی قوانین شادی کے لئے
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ ہماری قوم کے لوگوں نے ذیل کے قوانین پاس کئے ہیں۔ آیا شریعت مطہرہ میں جائز ہے یا نہیں۔ لڑکی کی شادی کریں تو لڑکے والے سے تین سو پچاس روپیہ کا زیور لینا چاہئے اور یہ زیور مہر سے علاوہ اور زیور کا حق خاوند کا ہے اس سے زیادہ زیور لڑکی والے لیویں اور لڑکے والے دیویں تو ان دونوں کا جرمانہ کیا جاتا ہے اور جرمانہ نہ دیویں تو اس کے ساتھ سب قوم کے آدمی ترک موالات کرتے ہیں اس بات میں چند سوالات ہیں شریعت کا کیا حکم ہے؟ (۱)
جواب
(۱) کسی شخص کو کسی زیور کے لئے مجبور کرنا درست نہیں بلکہ اس کی اور زوجہ کی حیثیت کا لحاظ رکھنا ضروری ہے اور کسی جرم پر مال کا جرمانہ کرنا شرعاً نا جائز ہے۔ والحاصل ان المذهب عدم التعزير باخذ المال اھ بحرص ۴۱ ج۵ (۲) جب جرمانہ کرنا ہی نا جائز ہے تو جرمانہ ادا نہ کرنے پر ترک موالات بھی نا جائز ہے خلاف شرع کام کی وجہ سے ترک موالات درست ہے۔ (۳)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔