الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

گوت میں نکاح کی رسم کی اصلاح کرنا

سوال

(۱) ہم لوگ قدیم مسلم راجپوت ہیں۔ راجپوتوں میں بہت سی ذاتیں ہوتی ہیں، مثلاً چوہان، گوتم، بیس وغیرہ۔ ہم گوتم ہیں اور بیسوں کے یہاں ہماری نانیہال ہے۔ ہندؤوں میں یہ دستور ہے کہ جس کی لڑکیاں لاتے ہیں اس ذات میں اپنی لڑکیوں کی شادی نہیں کرتے۔ ہمارے یہاں بھی یہی ذہن بنا ہوا ہے، مگر کچھ رشتے اس سے قبل اس کے خلاف ہو چکے ہیں۔ احقر نے بھی اپنی لڑکی کو اپنے ماموں زاد بھائی کے لڑکے کے ساتھ جو فارغ دارالعلوم دیو بند بھی ہیں، منسوب کرنا چاہا۔ اس پر اہل خاندان کو اعتراض ہوا۔

جواب

(۱) مسلمانوں میں بہت سی غیروں کی رسمیں پھیلی ہوئی ہیں جن کی اصلاح ضروری ہے۔ شادی کے سلسلہ میں ماموں زاد، خالہ زاد، چازاد بھائی سے پرہیز کرنا غلط اور غیر اسلامی رواج ہے، شرعاً یہ رشتہ نا جائز نہیں۔ بلکہ ان سے عقد نکاح درست ہے، ان کو حرام سمجھنا اسلامی عقیدہ نہیں بلکہ خطر ناک عقیدہ ہے جو شخص اس غلط رسم کو توڑ کر عقد کر دے گا وہ بہت بڑے اجر وثواب کا مستحق ہوگا، اس کی مدد کرنے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو