رسوم شادی مٹانے کے لئے کمیٹی کی بعض تجاویز
سوال
مسلم چھپی ایسوسی ایشن ضلع بجنور نے اپنی ایک سماجی تنظیم بنائی ہے جس میں انھوں نے اپنی شادیوں میں زیور، کپڑا، رسم منگنی اور رخصتی وغیرہ کے اخراجات میں کمی کی ہے وہیں مہر جہیز پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔ (۱) نکاح کے لئے طے کیا ہے کہ نکاح صرف مہر فاطمی پر ہوگا۔ پانچ برتن سے زائد نہیں دے سکتا۔ نقد اکاون ۱۵۱ روپیہ سے زائد نہیں دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سلائی مشین، گھڑی، سائیکل، پلنگ، پیڑھا اگر توفیق ہو تو دے سکتا ہے۔ کیا یہ پابندی شرعاً جائز ہے؟ اس پر عمل کرنے والے گنہ گار تو نہیں ہوں گے؟ (۲)
جواب
(۱) اقتصادی، معاشی، معاشرتی سدھار کے لئے قوم پر توجہ کرنا اور انتظام کرنا بہت مناسب ہے تا کہ غلط طریقے اور غلط اخراجات بند ہو کر صحیح طریق پر سنت کے مطابق نکاح کی تقریب انجام پائے۔ مہر کی مقدار شریعت نے کم سے کم دس ۱۰ درہم تجویز کی ہے جو تقریباً ۳ تولہ چاندی ہے زیادہ کی مقدار مقرر نہیں کی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔