الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شادی میں روپیہ لینے کی شرط

سوال

ایک بالغ لڑکا غیر شادی شدہ ایک لڑکی سے عقد کرنا چاہتا ہے، مگر وہاں پر والد صاحب نے اس لئے شادی سے انکار کر دیا کہ کچھ ان بن ہوگئی، حالانکہ پہلے وہاں رشتہ کیا تھا، دوسری جگہ جہاں لڑکے کو آٹھ ہزار روپے دینے کا وعدہ کیا ہے، بات کر لی، لڑکے نے ان آٹھ ہزار روپیوں کو ٹھکرادیا اور پہلی جگہ اپنی مرضی سے شادی کر لی جبکہ والد صاحب اصرار وضد کی وجہ سے ناراض ہو گئے تو مذکورہ صورت میں لڑکا والد کا نا فرمان ہوگا کہ نہیں؟ اگر نہیں تو کیوں؟ اور اگر ہو گا تو کیوں؟ تحریر فرمائیں؟

جواب

آٹھ ہزار روپئے لڑکے کی شادی کے لئے شرط قرار دینا غلط ہے نا جائز ہے، ناجائز کام میں والد کی اطاعت نہیں، اگر لڑکے نے اس غلط روپئے سے بچنے کے لئے اپنی شادی خود کر لی، تو وہ نافرمان نہیں ہوا لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق (الحدیث)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو