الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بیرون ملک میں مقیم لڑکے کا نکاح کیلئے اپنے والد کو مختار بنانا

سوال

میں کنیڈا میں بوجہ تعلیم مقیم ہوں۔ میری شادی کے سلسلہ میں والد نے لکھا تو میں نے جواباً لکھا بذریعہ ٹیلی فون نکاح کر دو جب کہ اور بہت سے لڑکوں کے ہوتے ہیں۔ ایک مولوی صاحب کے بتلانے پر کہ مختار نامہ منگا لیا جائے تو میں نے ایک بیرسٹر سے مختار نامہ لے کر اور منگالیا پاکستانی ہائی کمشنر سے تصدیق کرا کر والد کو بھجوا دیا۔ میں نے اپنے والد صاحب کو لکھا کہ نکاح پڑھنے کے بعد جب اقرار لیویں تو آپ میری طرف سے اقرار کر لیں کہ یہ رشتہ میرے لڑکے کو منظور ہے اور میں اس کا اقرار کرتا ہوں۔

جواب

جب کہ آپ نے والد صاحب کو اپنی طرف سے مختار بنا دیا، انھوں نے مجلس نکاح میں گواہوں کے سامنے آپ کی طرف سے قبول کیا تو نکاح بلا تکلف درست ہو گیا۔ کوئی شبہ اور تردد نہ کریں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو