الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بالغہ کا نکاح اس کی اجازت سے کیا جائے

سوال

ایک عورت مسماۃ نور بیگم کا نکاح مسلمی نورو کے ساتھ نور بیگم کے والدین کر دیتے ہیں لیکن کچھ عرصہ کے بعد نو روا اپنی زوجہ نور بیگم کو طلاق دے کر علیحدہ کر دیتا ہے نور بیگم اپنے والد نتھو کے یہاں آجاتی ہے عدت گزارنے کے بعد نور بیگم کا والد نتھو نور بیگم کا نکاح دوسری جگہ مسمی عبدل کے ساتھ کر دیتا ہے عبدل کے ساتھ حمل قرار پاتا ہے لیکن جب کہ حمل چار ماہ کا ہو چکتا ہے تو عبدل اور نور بیگم (میاں بیوی)

جواب

بالغہ لڑکی اگر اپنی برادری میں اپنا نکاح مہر مثل پر خود کرے تو وہ صحیح اور نافذ ہو جاتا ہے اجازت والد پر موقوف نہیں رہتا اور والد کو شرعاً اجازت نہیں کہ بالغ لڑکی کا نکاح بغیر اس کی اجازت کے کسی جگہ کر دے لڑکی بالغہ کی رضا مندی ہر حالت میں ضروری ہے۔ بغیر نکاح عورت کو اپنے گھر رکھنا اور عورت کو رہنا حرام ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو