الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نکاح بالغہ بلا اجازت

سوال

میرے والد حقیقی محمد اسماعیل نے میری شادی میری مرضی کے خلاف مسلمی خدا بخش ولد میاں خیر الدین کے ساتھ کر دی میں کنواری اور بالغہ ہوں، مجھے اس نکاح کے متعلق کچھ خبر نہیں دی گئی اور نہ ہی میرے والد یا کسی نے مجھ سے اجازت لی اور نہ ہی ایجاب وقبول کرایا گیا، چنانچہ خدا بخش مذکور فاسق فاجر زانی بے روزگار اور معمر ہے، نیز تا حال میں سسرال یعنی خدا بخش کے گھر بھی نہیں گئی، میں نہ تو رضا مند تھی اور نہ ہوں نکاح معرض تحریر میں آچکا ہے جو منجانب خدا بخش ہے میرے مشاہدہ سے نہ نکاح نامہ گذرا اور نہ گزارا گیا میں خواندہ بھی ہوں،…

جواب

جو کنواری بالغہ ہو اس پر کسی کو ولایت اجبار حاصل نہیں یعنی کوئی شخص باپ وغیرہ اس کا نکاح جبراً بلا اسکی رضا مندی نہیں کر سکتا، اگر کسی نے ایسا کیا بھی تو یہ نکاح اس بالغہ کی اجازت پر موقوف رہے گا۔ پس اگر بوقت نکاح اجازت نہیں لی گئی اور بلا اجازت نکاح کر دیا گیا ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو