الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بالغہ کا نکاح بغیر اس کی اجازت کے

سوال

کسی بالغہ لڑکی کی شادی بلا رضا مندی اس کے اور اس کی والدہ کے کی جائے یعنی صرف والدہ اپنے بیٹے کی خاطر اس مذکورہ بالا لڑکی کا بٹہ دے کر اپنے لڑکے کی شادی یعنی نکاح کرے اور وہ مذکور لڑکا مذکورہ والدہ کے دولڑکوں کا سوتیلا بھائی وبیٹا ہو اور نکاح کے صرف والد ہی ذمہ دار ہوں اور لڑکی اور والدہ لڑکی کو نکاح ہونے کے وقت بالکل پوچھا نہ گیا ہو یہاں تک کہ لڑکی اور والدہ لڑکی کو مطلق علم نہ ہو کہ نکاح کس وقت بلکہ کب ہوا اور مہر کیا مقرر ہوا ہے۔

جواب

اگر لڑکی نے والد کے کئے ہوئے نکاح کو اطلاع پانے پر رد نہیں کیا بلکہ قبول کر لیا یا خاموش ہوگئی، مہر کی خبر پانے پر بھی رد نہیں کیا بلکہ چپ ہو گئی اور سسرال جاتے وقت بھی نکاح سے ناراضی ظاہر نہیں کی تو شرعاً وہ نکاح لازم اور نافذ ہو گیا اب لڑکی اس کو فسخ نہیں کر سکتی اگر شوہر سے نباہ دشوار ہے طبیعتوں میں اختلاف ہے یا شوہر پریشان کرتا ہے حقوق ادا نہیں کرتا تو چاہئے کہ کسی طرح سے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو