الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نکاح سے متعلق ماں کی وصیت کا حکم

سوال

زید کی بیوی نے اپنی نابالغہ لڑکی کے نکاح کے متعلق حالت تندرستی میں زید سے دریافت کیا کہ کیا تمہارا ارادہ عمر کے یہاں کرنے کا ہے؟ زید نے کہا جو تمہارا ارادہ ہے وہی میرا بھی ارادہ ہے، زید کی بیوی نے کہا میں اس سے ناراض ہوں اس کے بعد زید کی بیوی نے بوقت مرگ محض ایک عاقلہ بالغہ سے وصیت کی کہ لڑکی مذکورہ کی شادی عمر کے یہاں نہ کی جاوے اگر ایسا کیا گیا تو میں حشر میں دامن گیر ہوں گی۔ اب اگر زید لڑ کی مذکورہ کی شادی عمر کے یہاں کر دے تو جائز ہے یا نہیں؟ جب کہ زید سے عمر کی قرابت قریبہ ہے۔

جواب

شرعاً اس وصیت کا کوئی اعتبار نہیں زید کو اس لڑکی پر جس قسم کی ولایت کا حق پہلے حاصل تھا ویسے ہی اب بھی ہے یعنی باپ ہونے کی حیثیت سے جس طرح بیوی کی زندگی میں اپنے اختیار سے بیوی کی مرضی کے خلاف نکاح کرنے کا مجاز تھا اسی طرح اب بھی ہے اگر وہ لڑکی زید کی نہیں بلکہ اس کی بیوی کی کسی دوسرے شوہر سے ہے اور زید کا اس سے کوئی رشتہ عصبیت کا نہیں تو زید کو اس کی ولایت نہ پہلے حاصل تھی نہ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو