نکاح کی اجازت لینے کا طریقہ
سوال
اصولی طریقہ دلہن سے اجازت حاصل کرنے کا کیا ہے۔ (۲) اجنبی گواہوں کا اجازت لینے کے لئے عورتوں کے مجمع میں جانا شرعاً کیسا ہے۔ (۳) یہاں پر تو نکاح سے دو گھنٹہ قبل لڑکی کا ولی یا نامزد کردہ وکیل مع دو گواہوں کے اندر جاتا ہے اور عورتیں دو گھنٹہ تک پریشان کرتی ہیں پھر لڑکی سے کہلاتی ہیں کہ ہاں کہہ دو۔ اس رسم کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب
بالغہ لڑکی کا ولی (باپ) خود لڑکی کو اطلاع کر دے کہ میں فلاں لڑکے سے اتنے مہر کے عوض تیرا نکاح کرتا ہوں پھر اتنی دیر ٹھہر جائے کہ اگر لڑکی ہاں نہیں کا کوئی جواب دینا چاہے تو دے سکے اس پر اصرار نہ کرے کہ جواب دے بلکہ خاموشی بھی کافی ہے۔ پھر مجمع میں چاہے خود اس کی طرف سے ایجاب وقبول کرلے۔ یا قاضی یا نکاح خواں کو وکیل بنا دے اور وہ ایجاب وقبول کرے۔ شرعاً تو اتنا کر لینا کافی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔