الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ولایت مجنون

سوال

لڑکی کا نام سکینہ ہے اور لڑکے کا باپ باؤلا ہے اور لڑکی کی ماں محنت کرتی ہے اور اپنے بچوں کو پالتی ہے جس وقت لڑکی کا نکاح ہوا تھا اس وقت لڑکی کی عمر چار یا پانچ سال کی تھی لہذا ہم یہ چاہتے ہیں کہ یہ نکاح شرع کی رو سے جائز ہے یا نہیں کیونکہ لڑکی بھی چاہتی ہے کہ وہاں نہ جاؤں کیونکہ ۵ روی / آدمی اکٹھا ہوئے اور انھوں نے لڑکی سے کہا تو لڑکی نے جواب دیدیا کہ میں اس گھر میں نہیں جاتی اگر تم زیادتی کرو گے تو ہم کنوئیں میں گر کر مر جائیں گے اس لئے یہ فتویٰ طلب ہے کہ یہ جائز ہے۔ یا نہیں؟

جواب

اگر نکاح کے وقت لڑکی کا باپ باؤلا نہیں تھا بلکہ ہوش میں تھا تو وہ نکاح صحیح اور لازم ہو گیا اس کو فسخ کرانے کا اختیار نہیں جب تک شوہر طلاق نہ دے دوسری جگہ نکاح نہیں ہو سکتا۔ اگر لڑکی کا باپ نکاح کے وقت باؤلا تھا اور اسی حالت میں اس نے نکاح کیا ہے تو یہ نکاح اس کی والدہ کی اجازت پر موقوف تھا اگر والدہ نے اجازت دیدی تو صحیح ہوگیا تھا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو