ولایت نکاح بعوض مہر دیدینا
سوال
ایک شخص اپنی عورت کو طلاق دیتا ہے اور عوض مہر اپنی نابالغہ لڑکیوں کا جو کہ اس عورت سے ہیں والدہ دختران کو ولایت کلی دیتا ہے اور اپنا حق ولایت کلیۃ سلب کرتا ہے، یعنی جہاں والدہ دختران کی مرضی ہو نکاح بلا اجازت ورضا مندی والد کر دے تو والدہ مذکورہ کا کوئی حق رکاوٹ نہ ہو اور عورت مذکورہ کی طرف سے نشوز بالکل نہ ہو بلکہ خاوند برضامندی خوش اس کو طلاق دے کر یہ اختیارات کلیہ دینا چاہتا ہے کیا شرعاً وہ عورت کلیہ اتنی اختیارات کی حقیقی مالک منصور ہو سکتی ہے، یا وقت نکاح پھر والد کی اجازت کی ضرورت ہے اور اگر خاوند دوسرا نکاح…
جواب
عورت اگر اپنا مہر ساقط کردے تو ساقط ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ حق عورت ہے”’ وان حطت عنه من مهرها صح الحط لأن المهر حقها او الحط يلاقيه حالة البقاء هدایه ا ج ۲ ص ۳۰۵ لیکن مہر کے عوض میں ولایت اور اختیارات شرعیہ کی بیع نہیں ہو سکتی کیونکہ ولایت مثل میتہ ودم کے ہیں مال نہیں اور صحت بیع کے لئے طرفین میں مال ہونا ضروری ہے، وكذا بيع الميتة والدم والحر باطل لانها ليست اموالا، هداية، ج ۳ ص…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔