جو شخص شرعی باپ نہیں وہ ولی بھی نہیں
سوال
ایک عورت اپنا خاوند چھوڑ کر دوسرے کے یہاں رہنے لگی اس کے پاس ایک لڑکی اس کے اپنے خاوند کی بھی ہے اور اس کا نکاح نہیں ہوا۔ اس کے نکاح کو میاں جی انکار کرتے ہیں گاؤں کے لوگ ناراض ہیں تو اس کا نکاح جائز ہے یا نہیں؟
جواب
اگر وہ لڑکی نابالغہ ہے تو اس کا ولی اس کا والد ہے بغیر اس کی اجازت کے اس کا نکاح درست نہیں۔ جس شخص کے پاس اس کی والدہ ناجائز طریقے پر رہتی ہے وہ ولی شرعی نہیں اس کا باپ نہیں اس کو اس کے نکاح کرنے کا حق نہیں اور اس عورت کو دوسرے شخص کے پاس رہنا حرام ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔