الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

عورت کا اپنا نکاح خود کرنا

سوال

ایک بالغہ عاقلہ حنفیہ نے کفو میں بلا رضا مندی ولی کے شادی کی۔ نکاح ہوا یا نہیں؟ زید یوں کہتا ہے کہ نکاح نہیں ہوا اصلاً، اور یوں تاویل کرتے ہیں کہ اگر چہ امام صاحب کا اصل اصول یہ ہے کہ عاقلہ بالغہ خود مختار ہے، لہذا پورا حق حاصل ہوگا اور اگر نابالغہ ہو تو اجازت ولی پر موقوف ہو گا لا نکاح الا بولی یا وہ فنكاحها باطل باطل باطل کی رو سے جو کہ امام شافعی کا استدلال ہے۔

جواب

حنفیہ کے نزدیک بلا شبہ درست ہو گیا۔ فلا تعضلوهن ان ينكحن ازواجهن عورت اگر اپنا نکاح کرنا چاہے تو ولی کو روکنے کا حق نہیں۔ البتہ اگر غیر کفو میں کرے تو اس کا حکم دوسرا ہے، اس پر فنکاحها باطل محمول ہے۔ سہولت مذہب حنفی میں موجود ہے، کہیں اور تلاش کرنے کی ضرورت نہیں۔ فتح القدیر احکام القرآن بدائع الصنائع وغیرہ میں دلیل موجود ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو