ولی سے جبراً اجازت نکاح
سوال
(۱) ایک لڑکی کے نکاح کی یہ صورت ہوئی جب کہ وہ نابالغ تھی اس کے ولی کا بائیکاٹ کیا گیا اور اس پر جھوٹے معاملہ کا دعویٰ کر دیا گیا عدالت میں وہ بہت پریشان ہوا اور چند آدمیوں نے اس کو پکڑ کر زبردستی نکاح کی اجازت لے لی یہ اجازت باپ سے لی۔ (۲) کیا اس صورت میں لڑکی کا نکاح ہو گیا یا نہیں؟ (۳) کیا یہ عورت اپنا نکاح کسی دوسرے شخص سے اپنی مرضی سے کر سکتی ہے یا نہیں؟ (۴) بالغ ہونے پر لڑکی نے نکاح سے انکار کر دیا تھا؟
جواب
(۲،۱) صورت مسئولہ میں وہ نکاح صحیح ہو گیا۔ زوجها اولياءها وهم مكرهون جاز النکاح بدائع ص ۱۸۵ ج۷، (۳) جب تک شوہر اس عورت کو طلاق نہ دے یا خلع وغیرہ کے ذریعہ سے شرعی طریق سے جدائی نہ ہو جائے اس عورت کا دوسری جگہ نکاح جائز نہیں۔ (۴) جب کہ باپ نے نکاح کی اجازت دی تھی (اگر چہ جبراً ہی دی تھی) تو عورت کو بالغ ہونے پر اس کے فسخ کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔