الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شافعیہ کے قول پر فتوی

سوال

امام شافعی کے نزدیک بغیر ولی کے نکاح نہیں ہوتا اور ہمارے علاقہ میں ایسا ہوتا چلا آ رہا ہے جو علماء ندوہ سے فارغ ہو کر آئے ہیں انھوں نے ایسے نکاحوں کی ممانعت کی۔ البتہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک ہو جاتا ہے۔ مگر جن لڑکیوں نے فرار ہو کر بغیر ولی کے اپنا نکاح کر لیا ہے۔ صاحب اولاد بھی ہیں۔ ان کے بارے میں امام شافعی کے نزدیک کیا حکم ہے؟ نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں؟ جواب امام شافعی کے حوالہ سے تحریر کریں ہمارے علاقہ میں دنیاوی علم بہت ہے اور دینی کم۔ اس لئے ایسے نکاح کثیر تعداد میں ہوتے ہیں۔

جواب

اتنا تو آپ کو بھی معلوم ہے کہ حضرت امام شافعی کے نزدیک بغیر ولی کے نکاح درست نہیں ہوتا ہے پھر ایسے نکاح اور ایسے نکاح سے اولاد کا حکم جو کچھ دریافت کرنا ہو علماء شافعیہ ہی سے دریافت کیا جائے، بمبئی جامع مسجد سے بھی حکم مذہب شافعیہ کا معلوم ہو سکتا ہے آپ کے مقامی علماء شافعیہ اگر خود نہ بتائیں تو بمبئی سے دریافت کرلیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو