الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

چچا کی موجودگی میں ماں کو ولایت نکاح نہیں

سوال

شوہر کا انتقال ہو گیا۔ ایک لڑکی صغیرہ چھوڑ گیا۔ مریم بیوہ نے لڑکی کا نکاح اپنی صوابدید کے مطابق کر دیا لڑکی کا چچا شعبان اس کا نکاح اپنے لڑکے سے کرنا چاہتا تھا لڑکی کی والدہ نے جہاں نکاح کیا ہے وہ اس نکاح سے خوش نہیں۔ شرعاً یہ نکاح منعقد ہوا یا نہیں۔ جب کہ چچانے یتیم کی کوئی خیر گیری نہیں کی؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر اس لڑکی کا کوئی رشتہ دار چا سے قریب موجود نہیں تو اس کا ولی نکاح شرعاً چا شعبان ہے۔ مریم نے جو اپنی لڑکی کا نکاح بلا رضا مندی شعبان کیا ہے وہ شعبان کی اجازت پر موقوف ہے اگر شعبان اجازت دے گا تو نافذ ہوگا ورنہ نہیں۔ ماں کو ولایت عصبہ نہ ہونے کی صورت میں ہوتی ہے جب عصبہ موجود ہو تو وہ ولی ہوتا ہے۔ ماں کو ولایت نہیں پہونچتی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو