الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ماں کو ولایت نکاح

سوال

مسمات ہندہ کے والدین جبل پور میں رہتے تھے۔ ہندہ وہیں پیدا ہوئی۔ جب ہندہ کی عمر ۶ رماہ کی ہوئی تو والد کا انتقال ہو گیا اور ہندہ کا نکاح بعمر تین سال لوگوں کے مشورہ سے اس کی والدہ نے شفیق الاسلام سے کر دیا اور شفیق الاسلام کا نکاح ہندہ کے ساتھ پڑھایا گیا اور رسم نکاح ادا کئے گئے، بعد نکاح ہندہ اپنی والدہ کی معیت میں جبل پور میں دو سال تک اور رہی لوگ ہندہ کی والدہ کو مجبور کرتے رہے کہ وہ اپنا نکاح ثانی کرلے مگر وہ انکار کرتی رہی لوگ اصرار کرتے رہے حتی کہ اس کو جبل پور چھوڑ کر الہ آباد آنا پڑا۔

جواب

جبکہ ہندہ نے بالغہ ہونے پر خیار بلوغ کے ماتحت اپنا نکاح جو کہ اس کی والدہ نے شفیق الاسلام سے کر دیا تھا فسخ نہیں کرایا تو شرعاً وہ نکاح لازم ہو گیا۔ بغیر شفیق الاسلام کے طلاق دیئے دوسری جگہ ہرگز نکاح جائز نہیں بلکہ حرام ہوا اور حرمت کا علم ہوتے ہوئے نکاح ثانی سے جو صحبت کی گئی ہے وہ زنا ہے۔ اما منكوحة الغير.

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو