ولایت نکاح ماں کو ہے یا سوتیلے بھائی کو
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایک شادی کی تھی اسی سے دو لڑکے ہوئے تھے اس کے بعد وہ بیوی مر گئی تو اس زید نے دوسری بیوی کی جس سے دو اولاد ہوئیں ایک لڑکا اور ایک لڑکی اور زید انتقال کر گیا۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس لڑکی نابالغہ اور لڑکا نابالغ کی ولایت نکاح کس کو حاصل ہے اس کی والدہ کو یا اس کے بالغ سوتیلے بھائیوں کو اور اگر اس لڑکی اور لڑکے کا نکاح اس کی حقیقی والدہ یا سوتیلی والدہ کر دے تو جائز ہے یا نہیں؟
جواب
نابالغ لڑکا اور لڑکی نہ اپنا نکاح خود کر سکتے ہیں نہ ایک دوسرے کے ولی بن سکتے ہیں۔ - ولا ولاية لعبد ولا صغير ولا مجنون لانه لا ولاية لهم على انفسهم فاولى ان لا يثبت على غيرهم هدایت ص ۲۹۸ ج ۲ سوتیلا باپ اگر قریبی رشتہ دار مثلاً چا، تایا نہیں تو وہ بھی ولی نہیں بن سكتا ولو كان الصغير والصغيرة في حجر رجل يعولهما كالملتقط ونحوه فانه لايملك تزويجهما كذا في فتاویٰ قاضی خان عالم…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔