ماں اور دادی میں ولی نکاح کون ہے؟
سوال
(۱) ہندہ نے اپنی نابالغہ بچی جمیلہ کے رشتہ کے لئے لڑکا تلاش کرنے کے لئے ایک غیر ولی زید کو بھیجا۔ زید نے دوسرے گاؤں میں جا کر ایک لڑکا دیکھا اور اس سے کچھ رقم لے کر از خود اپنی جانب سے نکاح کر دیا حالانکہ زید کو نکاح کرنے کا اختیار بالکل نہیں دیا گیا تھا۔ اس نکاح سے لڑکی کی ماں اور دادی کوئی بھی راضی نہیں باپ مر چکا ہے۔ (۲) اب مدت کے بعد جمیلہ کی دادی رضا مند ہوگئی۔ تو کیا دادی کی رضا مندی سے نکاح ہو جائے گا جب کہ اس کی ماں رضا مند نہیں ہے۔ (۳) جس لڑکے سے نکاح ہوا ہے اس نے دوسری شادی کر لی ہے۔
جواب
(۱) زید ولی نہیں اس کو نکاح کا اختیار نہیں۔ اس کا کیا ہوا نکاح لڑکی کی والدہ کی اجازت پر موقوف تھا۔ اگر اس نے اس کو نا منظور کر دیا تو وہ بیکار ہو گیا۔ زید نے جو رقم لی ہے وہ رشوت ہے اس کو واپس کرنا ضروری ہے۔ (۲) لڑکی کی والدہ کے انکار کے بعد دادی کی رضا مندی بیکار ہے۔ (۳) جب لڑکی کی والدہ نے انکار کر دیا تھا تو وہ نکاح بھی ختم ہو گیا تھا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔