ولایت نکاح بھائی کو ہے ماں کو نہیں
سوال
زید کی پہلی بیوی مرحومہ سے دو بچے ہیں۔ اس کے بعد زید نے دوسری شادی کی ہندہ سے۔ اس سے بھی زید کے دو لڑکے اور ایک لڑکی خالدہ خاتون ہے۔ بعد انتقال ہندہ نے بکر سے شادی کر لی۔ خالدہ خاتون کی شادی نابالغی کی حالت میں چاروں بھائیوں کے علاوہ کسی اپنے آدمی نے باجازت والدہ خالدہ کی۔ حالانکہ نکاح میں بھائی موجود نہ تھے نہ اس پر راضی تھے۔ کیا اس صورت میں یہ شادی درست ہو سکتی ہے یا نہیں؟ اگر نہیں ہے تو کیا خالدہ کا نکاح دوسری جگہ کر سکتے ہیں کہ نہیں؟
جواب
ایسی حالت میں والدہ کو ولایت نکاح حاصل نہیں بلکہ بھائی ولی ہے۔ لہذا والدہ نے جو نکاح کرایا وہ بھائیوں کی اجازت پر موقوف ہے اگر بھائیوں نے نکاح کی خبر سن کر اس کو رد (نامنظور کر دیا تو وہ نکاح کالعدم اور ختم ہو گیا۔ اب بھائی دوسری جگہ نکاح کر سکتے ہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔