ولایت نکاح
سوال
مسماة نصیباً کا نکاح اللہ بندے سے ہوا۔ اللہ بندے کا انتقال ہو گیا۔ اللہ بندے نے دو اولاد چھوڑی۔ ایک لڑکا اور ایک لڑکی، مسماۃ مذکورہ نے دوسرا نکاح کرم الہی سے کیا، کرم الہی سے دولڑکیاں ہیں۔ ان میں سے ایک لڑکی عمر کے لحاظ سے نابالغہ ہے اور وجود کے اعتبار سے بالغہ معلوم ہوتی ہے۔ کرم الہی کے ایک بہت دور کے رشتہ کا ایک بھائی ہے۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس کی لڑکی کی ولایت کا حق اس کے بھائی کو ہے یا نہیں، جو اللہ بندے نے چھوڑا ہے۔ یا اس کی ماں کو ہے یا اس کے نانا کو ہے یا ماموں کو ہے یا کس کو ہے؟
جواب
اگر دادھیال کی طرف سے کوئی بھی بھائی موجود ہے تو نابالغہ کے نکاح کی ولایت اسی کو حاصل ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔