نکاح کے لئے نا خوش عصبہ کی اجازت
سوال
ہندہ کے شوہر زید کا انتقال ہو گیا اور اس کی کئی لڑکیاں ہیں جن میں ایک کے علاوہ سب شادی شدہ ہیں ایک لڑکی ابھی نابالغہ اور غیر شادی شدہ ہے جس کے نکاح کے متعلق زید نے اپنی زندگی میں اپنی بیوی ہندہ سے اپنی دوشادی شدہ لڑکیوں کے سامنے اس بات کی زبانی وصیت کی کہ اس نابالغہ کا نکاح فلاں خالد کے لڑکے سے کر دینا واضح ہو کہ زید کا کوئی بھائی بھی نہیں ہے ایک بھتیجا ہے لیکن بھتیجا زندگی ہی میں اپنے تایا زید سے رنجش رکھتا تھا اور آج بھی اپنی تائی ہندہ سے رنجش رکھتا ہے اور یہ الفاظ کہتا ہے کہ مجھے تم لوگوں سے کوئی مطلب نہیں اور…
جواب
بھتیجا تو اپنی ناراضگی کی وجہ سے بے تعلق ہے اور اس نابالغہ کے ساتھ اس کو کوئی ہمدردی نہیں اگر نابالغہ کے نکاح کی ضرورت اور مصلحت ہے تو موجودہ صورت میں مرحوم کا چا اگر اجازت دے دے تو نکاح درست ہو سکتا ہے محض والدہ کی اجازت مرحوم کی وصیت کی بناء پر کافی نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔