نکاح کے وقت حرمت رضاعت سے خاموشی پھر بعد میں اظہار
سوال
سراج الدین ولد دلبر خان کی شادی چودہ سال قبل شاه بیگم دختر کالا خان نمبر دار کو ڈارہ کے ساتھ ہوئی مسمی مذکورہ نے بارہ سال گزرنے کے بعد دوسری شادی مسماۃ حسن جان دختر کالا خاں سے کی۔ پہلی بیوی سے تین لڑکیاں ہیں اور سسر نے مسمی مذکورہ سے گیارہ ہزار بطور قرض حسنہ لئے تھے۔ دوسری شادی ہونے کی وجہ سے اور روپیہ دینے کی وجہ سے مسمی مذکور کے سسر اور ساس نے دودھ پینے کا مسئلہ بنالیا ہے اور مسمی مذکور کی بیوی شاہ بیگم کو ورغلا کر مسمی مذکور سے طلاق لینا چاہتے ہیں اور ایک دوسری جگہ نکاح کا منصوبہ بنارہے ہیں۔
جواب
اگر واقعہ اسی طرح ہے تو اب دودھ پینے کا مسئلہ (حرمت رضاعت) بالکل بے محل ہے۔ جو لوگ اپنی لڑکی کا نکاح کرنے والے ہیں وہ نکاح کرتے وقت کیوں خاموش رہے اور کیوں نکاح کیا۔ اگر حرمت رضاعت تھی تو اس وقت کیوں نہیں کہا، اب ان کے قول کا شرعاً اعتبار نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔