بیوی کی بہن سے نکاح
سوال
(۱) زید صاحب اولاد ہے، اس نے دوسری شادی کرنے کا بیوی سے اظہار کیا۔ بیوی نے کہا اگر آپ شادی کرنا چاہتے ہیں تو میری چھوٹی بہن سے ہی کریں۔ آخر کار زید نے نکاح کر لیا۔ اب لوگوں نے اس نکاح کو نا جائز کہنا شروع کر دیا۔ ایک قاضی صاحب سے معلوم کیا انھوں نے ناجائز کہا۔ آیا یہ نکاح جائز ہے یا نا جائز؟ (۲) نکاح کرنے سے سالی زوجیت میں آگئی یا نہیں؟ (۳) نصف مہر واجب ہوگا یا نہیں؟ (۴) اگر جماع کر لیا ہے تو پہلی بیوی نکاح میں باقی ہے یا نکاح فسخ ہو گیا۔ (۵) جماع کے بعد دونوں میں سے اول کو رکھ سکتا ہے یا ثانی کو؟
جواب
(۱) بیوی کی بہن سے نکاح حرام ہے ہاں اگر بیوی مر جائے یا اس کو طلاق دیدے اور عدت گزر جائے تو اس کی بہن سے نکاح ہو سکتا ہے۔ (۲) وہ زوجیت میں نہیں آئی۔ (۳) کچھ بھی واجب نہ ہوگا علیحدگی واجب ہوگی ہر گز دونوں تنہائی میں جمع نہ ہونے پائیں۔ (۴) سالی سے جماع کرنا حرام ہے مگر اس سے اس کا پہلا نکاح فسخ نہیں ہوا۔ (۵)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔