الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کیا رضاعی بھائی کی لڑکی سے نکاح ہو سکتا ہے؟

سوال

زید نے اپنی حقیقی نانی کا دودھ دو سال کی عمر کے اندر پیا تو کیا اس کے حقیقی ماموں کی بیٹی سے نکاح صحیح ودرست ہے اور اگر نکاح ہو گیا اور اولاد بھی ہوگئی تو کیا اب اس کو اپنی زوجہ سے جدائی اور مفارقت کرنی چاہئے یا نہیں اور اس اولاد کی نسبت کیا حکم ہے حلالی ہے یا حرامی؟

جواب

صورت مسئولہ میں زید اور اس کا ماموں رضاعی بھائی ہو گئے اور ماموں کی بیٹی زید کی رضاعی بھتیجی ہوئی لہذا ان دونوں کا نکاح آپس میں نا جائز ہے اگر نکاح ہو چکا ہے تو مفارقت ومتارکت لازم ہے ولاحل بين الرضيعة وولد مرضعتها وولد ولدها لانه ولد الاخ اه در مختار یہ نکاح فاسد ہے اور نکاح فاسد میں امام اعظم کے نزدیک نسب ثابت ہو جاتا ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو